لیلتہ القدر

Home/Press Releases/لیلتہ القدر

لیلتہ القدر

لیلتہ القدر
تحریر : مولانا امیر محمد اکرم اعوان

ارشاد باری تعالیٰ ہے بے شک اس کو یعنی قرآن کریم کو لیلتہ القدر میں نازل فرمایا اور اے مخاطب تجھے کیا معلو م کہ لیلتہ القدر کیا ہے؟ لیلتہ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے اس میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر شعبہ زندگی میں ہر حال میں ہر کام میں سلامتی ہے فجر تک رحمت ہے۔
اللہ کریم نے جہاں رمضان المبارک کو بے پناہ فضیلتیں اور بخشش کے سامان عطا فرمائے ہیں اور روزہ داروں کی بخشش اور انعامات کے وعدے کئے ہیں ،وہاں سب سے بڑی بات جو قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہے وہ رمضان المبارک کی خصوصیت ہے ۔رمضان المبارک وہ با برکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا قرآن کریم اللہ کریم کا ذاتی کلام ہے اور کلام متکلم کی شان ،حیثیت ،عظمت اور جلالت کا امین ہو تا ہے قرآن کریم اللہ کا ذاتی کلام ہے اور آخری کتاب ہے جو قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے اور اس میں قیامت تک کے حالات و مسائل کا حل اور جواب عطا فرمایا گیاہے۔اور یہ اتنا عظیم کلام ہے کہ اس کے لیے اللہ کریم نے رمضان کا مہینہ ،جو سب مہینوں سے افضل ہے پسند فرمایا۔اور ارشاد فرمایا ہم نے رمضان کو بھی قرآن سے عظمت و شرف عطا فرمایا۔پھر ارشاد فرمایا اسے ہم نے
لیلتہ القدر میں اتارا۔مفسرین اکرام لکھتے ہیں کہ لوح محفوظ سے آسمان اول پر ایک ہی رات میں لیلتہ القدر میں نازل ہو گیا لیکن حضور اکرمﷺ پر جو نزولِ قرآن ہوا وہ بھی لیلتہ القدر میں ہوااور تیئس برسوں میں مکمل ہو ا۔قرآن کی عظمت وجلالت یہ ہے کہ جس مہینے میں نازل ہواوہ مہینہ مہینوں سے افضل ،جس رات میں اترا وہ رات راتوں سے افضل اورجس ہستی پر نازل ہو اوہ تمام رسل کے سردار،امام اور افضل ہیں۔تو قرآن کریم اللہ رب العزت کا اتنا بڑا انعام ہے کہ جس کی عظمت کو ہمارا شعور سمو
نہیں سکتا۔
یہاں وضاحت فرمائی اے مخاطب تو کیا جانتا ہے لیلتہ لقدر کیا ہے ؟پھر اسکی ایک جھلک دکھلادی کہ اس کی وسعتیں تو بے پناہ ہیں ۔اس میں جو رحمتیں اور برکات ہیں وہ بے شمار ہیں ایک پہلو تمہیں اس کا بتا دیتا ہوں کہ یہ ایک رات ہزار مہینے سے بہتر ہے یعنی کوئی شخص ایک ہزار مہینہ باوضو رہے ذکر کرتا رہے ،مراقبات کرتا رہے
تلاوت کرتارہے ،نوافل پڑھتا رہے ،سجدے کرتا رہے ،تسبیحات کرتارہے ،درمیان میں کوئی وقفہ نہ ہو ،نہ کھائے نہ پیے ،نہ کہیں آئے نہ جائے اوراس ہزار مہینے یعنی تراسی برس اور چار مہینے سے اس کی ایک رات کی بیداری بہت بہتر ہے ۔کتنی بہتر ہے ؟ وہ حد مقرر نہیں فرمائی ۔یہاں ان فرشتوں کی بات ہو رہی ہے جو سال میں صرف لیلتہ القدر میں ہی اترتے ہیں۔سال میں صرف ایک رات اترتے ہیں جو رحمت و بخشش الہٰی لے کر زمین پہ اترتے ہیں اور پھیل جاتے ہیں ۔والروح سے مراد علماء کی ایک جماعت نے روح الامین لکھا ہے اور بہت سے دوسرے حضرات ،مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ روح سے مراد نجات یافتہ ارواح کو بھی اس رات رخصت ملتی ہے کہ زمین پر جائیں ،اپنوں کو تلاش کریں،انکے لیے دعا کریں ،انکے لیے برکات لے کر جائیں ،روح انسانی کا عجیب معاملہ ہے ۔روح نے برزخ یا آخرت میں وہ کچھ استعمال کرنا ہے جو کچھ اس نے یہاں کمایا ۔اس کے سارے کا سارا مدار اس چند روزہ زندگی پر ہے اس میں وہ کیا حاصل کرتا ہے وہی جاکر اسے برزخ میں ،میدان حشر میں آخرت میں،جنت میں اسی کے حساب سے ساری نعمتیں نصیب ہوں گی ۔
تو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ انعاماتِ الٰہی کی تو کوئی حد نہیں۔یعنی اللہ کی ایک مقدس کتا ب ہے جس کا ایک ایک لفظ اس کا ایک ایک حروف زندگی بھر کے گناہ بخشوانے نجات کے لیے اور ترقی درجات کے لیے کافی ہے ۔اس میں کتنی برکات ہیں جس کے نزول سے شہر رمضان کو تقدس بھی ملا،عظمت بھی ملی اور یہ ایک مہینہ اس کی ہر
ساعت کروڑوں لوگوں کو بخشوانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔پھر اس میں ایک خاص رات لیلتہ القدرہے ۔جو ہر طاق رات میں تلاش کی جانی چاہیے ۔اس ایک رات میں اتنی فضیلت رکھی اس کے کلام کی فضیلت کیا ہو گی ۔اسے پڑھنا ،اسے سمجھنا،اسکی لذت و حلاوت کو محسو س کرنا اور اس کو اپنے آپ پر نافذ کرنا،یہی تو قرآن ہے ۔
قربِ الٰہی کے لیے سب سے اعلیٰ ذریعہ ،فرمایا گیا اگر تم اللہ کریم سے باتیں کرنا چاہتے ہو تو نماز پڑھو ،نوافل ادا کرو تم اللہ سے مخاطب ہونے کا شرف پاؤ گے لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ کریم تم سے بات کرے تو پھر قرآن پڑھو !اللہ تم سے باتیں کرنے لگے گا ہر آیت تمہیں مخاطب کر کے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر حقائق سے آشنا کر رہی ہے ۔
پروردگار عا لم تم سے بات کرے تو پھر قرآن پڑھو تو کیا عظمت ہو گی اس کتاب کی جس مہینے میں اتری اس مہینے کو شرف بخشا ،جس رات میں اتری اس رات کو ہزار وں مہینوں پر افضل کر دیا ۔جس ہستی پر اتری وہ بھی کائنات کی افضل ترین ہستی ہے جوخود مخلوق ہے لیکن اس کا ثانی مخلوق میں نہیں ہے ۔ افضل البشر،افضل الرسلﷺ
تو فرمایا! اس میں بے پناہ فرشتے جو رحمت کے امیں ہوتے ہیں زمین پر تشریف لاتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں ان انعامات کو وصول کرنے کی استعداد بھی تو ہو۔جس کے وہی دو ضابطے جونبی ؑ نے بتائے وہی ہیں ،ایمان ہو ،احتساب ہو،احتساب یہ ہے کہ کسی دنیاوی لالچ کے لیے کر رہا ہے ذاتی شہرت کے لیے کررہا ہے
دولت دنیا جمع کرنا چاہتا ہے یا رضائے الٰہی کر رہا ہے ۔احتساب یہ ہے کہ اپنی خواہش ،اپنی آرزو کو دوسرے سے ہر کوئی بہتر جانچ سکتا ہے ۔تو احتساب کرے کہ خواہش محض قربِ الٰہی ،رضائے الٰہی کو پانے کی ہو تو پھر وہ نعمتیں وصول کرنے کی توفیق نصیب ہو گی ۔ہماری یہ بدنصیبی ہے کہ حقائق لوگوں نے چھوڑ دئیے ہیں اور حقایات کو اپنا لیا ہے علامہ مرحوم نے فرمایا ہے کہ
یہ امت روایا ت میں کھو گئی ہے
حقیقت خرافات میں کھو گئی ہے
لوگوں نے قصے کہانیا ں بنا لی ہیں اور قرآن کے ارشاد اور ارشادات آقائے نامدار ﷺ کو چھوڑ دیا ہے۔انکی پرواہ نہیں کرتے۔بھئی قرآن اور حدیث کے ہوتے ہوئے حکایات کے سننے کی کیا ضرورت ہے ؟ اور اگر کسی کی کوئی حکایات قرآن سے استفادہ کرنے کی،حدیث پاک،سنت سے استفادہ کرنے کی ہے تو وہ سننے سے ایمان تازہ ہوتا ہے لیکن کوئی کہانی قرآن و حدیث کے باہر ہے اس کے سننے سے تو وقت ہی ضائع ہو گا دل بھی سیاہ ہوں گے اور قوت عمل بھی ضائع ہو گی ۔دین کی بنیا د حکایات پر
قصوں پر نہیں ہے۔قرآن کریم نے بے شمار قصے بیان فرمائے ہیں انبیاء کے بھی اور سابقہ قوموں کے بھی ،کفار کے بھی اور بڑے بڑے جابر حکمرانوں کے بھی ۔آپ نے دیکھا قرآن کریم نے کہیں بھی مسلسل تاریخ بیان نہیں فرمائی۔جس قصے میں انکا کوئی ٹکڑابطور مثال لوگوں کو سمجھانے کے لیے جہاں درکار ہوا وہاں وہ ٹکڑا ارشاد فرما دیا ۔
کیونکہ قرآن کا موضوع عملی اور ایمانی زندگی کی اصلاح ہے تاریخ نہیں ۔اگر تاریخ ہو تی تو پھر ہر قصے کو مسلسل بیان فرماتا۔
فرمایا اس رات میں وہ خصوصی فرشتے جو طلبِ الٰہی بانٹتے ہیں۔وہ خصوصی فرشتے جو ذوق و شوق سے محبت الٰہی بانٹتے ہیں انہیں بھی چھٹی ملتی ہے اس رات کو نازل ہوتے ہیں اور نیک اور نجات یافتہ ارواح بھی کہ وہ تو اس عالم سے آشنا ہو چکی ہوتی ہیں وہ ان حقائق کے ساتھ آتی ہیں اور ان حقائق کو اپنوں کے قلوب پر القا کرنا چاہتی ہیں کہ یہ اس دنیا میں رہ کر وہ دنیا کما لیں ۔اس دنیا کو کمانے کی یہی دولت ہے جو یہاں اس وقت ہمارے پاس ہے جسے ہم نے محض وقت گزارنے پر لگا دیا ،کمال ہے۔جس سے پوچھو کیا حال ہے ؟کہتا ہے ٹائم پاس کر رہا ہوں ،کمال ہے یار ! وقت اتنی بے قیمت چیز ہے کہ تم اسے دھکے دے دے کر گزار رہے ہو ۔ایک ایک لمحہ قیمتی ہے جو لمحہ گزر گیا کوئی اسے لُٹا سکتا ہے؟ تو پھر اس میں اللہ کی یاد کیوں نہ ہو ذکر الٰہی کیوں نہ ہو ،اطاعت الٰہی کیوں نہ ہو ،ہر لمحے میں طلبِ الٰہی کیوں نہ ہو ۔یہ کیفیات بنتی ہیں۔
سو فرمایا ایسا موقع جو زندگی میں ایک بار ہی آئے اسے کہتے ہیں سنہری موقع،یہ ہماری زندگی سنہری موقع ہے ہمیں ایک ہی بار ملی ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ اس کے لمحات کو ہم
کہاں خرچ کررہے ہیں ۔کیونکہ اس پر ہماری دائمی ،ابد ی زندگی کا مواد ہے ۔یہ اس کی عطا ہے کہ وہ کوئی ایک لمحہ قبول کر لے تو ساری زندگی کو باغ و بہار کر دے یہ اس
کی عطا ہے لیکن کونسا لمحہ قبول ہو جائے۔

By | 2017-06-03T07:27:06+00:00 June 3rd, 2017|Press Releases|Comments Off on لیلتہ القدر

About the Author: